دن دن بھر
قسم کلام: متعلق فعل
معنی
١ - تمام دن، سارا سارا دن، صبح سے شام تک کا وقت۔ "ان باتوں میں کبھی کبھی ان کا دن دن بھر لگ جاتا ہے۔" ( ١٩٤٢ء، حیات شبلی، ٣٣٣ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم کی تکرار ہے اس کے ساتھ 'بھرنا' مصدر سے فعل امر 'بھر' لگا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں ١٩٤٣ء کو "حیات شبلی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تمام دن، سارا سارا دن، صبح سے شام تک کا وقت۔ "ان باتوں میں کبھی کبھی ان کا دن دن بھر لگ جاتا ہے۔" ( ١٩٤٢ء، حیات شبلی، ٣٣٣ )